پیش کش: جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی
۲۷ مئی ۲۰۲۱ء — وصال
۱۹ ستمبر ۲۰۲۱ء — صدارت کا آغاز
۲۷ مئی ۲۰۲۴ء کو مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں تین سالہ ٹرم مکمل ہوا۔ اس دوران جمعیۃ علماء ہند نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں — جنہیں چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی جدو جہد کو درج ذیل چھ شعبوں میں پیش کیا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے ۲۰۲۱ تا ۲۰۲۵ء کے درمیان ملت کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد مقدمات میں وکالت کی۔
ستمبر ۲۰۲۵ء کو سپریم کورٹ نے عارضی فیصلہ دیتے ہوئے کچھ راحت دی، اگرچہ وقف بائی یوزر پر روک نہ لگانا باعثِ تشویش ہے۔
نومبر ۲۰۲۴ء کو سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنایا جس میں بلڈوزر کے ذریعہ انصاف پر پابندی عائد کی۔
اکتوبر ۲۰۲۴ء میں سپریم کورٹ نے جمعیۃ کے دونوں مطالبات منظور کیے: ۱۹۷۱ء کٹ آف ڈیٹ اور پنچایت لنک سرٹیفکیٹ۔
اکتوبر ۲۰۲۳ء میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ ایسی شادی ہندوستانی تہذیب اور انسانیت کے خلاف ہے۔
۱۹؍ اگست ۲۰۲۵ء کو گجرات ہائی کورٹ نے متعدد دفعات پر پابندی لگائی۔ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
مصیبت کے ہر موقع پر جمعیۃ علماء ہند نے ریلیف و بازآبادکاری کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی۔
جمعیۃ علماء ہند نے مذہبی آزادی، تحفظِ رسالت، مدارس، اوقاف اور فرقہ پرستی کے خلاف متحرک جدوجہد کی۔
۲۰۲۲ء میں تریپورہ میں توہینِ رسالت کے خلاف جمعیۃ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی اور ملک گیر احتجاج منظم کیا۔
۲۰۲۲ء تا ۲۰۲۵ء متعدد تحفظِ مدارس کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ مدارس کے لیے کور کمیٹی اور آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کی تشکیل ہوئی۔
۲۰۲۴ء میں اوقاف کمیٹی قائم، ۲۸ نکاتی اعتراضات جے پی سی کو پیش کیے گئے، اور وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی گئی۔
۲۰۲۲ء میں "سدبھاؤنا سنسد" کے تحت پورے ملک میں ۲۱۳ پروگرام منعقد ہوئے تاکہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام عام ہو۔
بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں کامیاب عدالتی مہم چلائی گئی اور انصاف کے نام پر انہدام پر روک لگوائی گئی۔
جمعیۃ علماء ہند نے تنظیمی سطح پر ڈھانچہ جاتی مضبوطی کے لیے متعدد اقدامات کیے، ملک کو زونوں میں تقسیم کر کے فیلوز اور پی ایم او نظام تشکیل دیا۔
خودی کی معرفت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے ملک گیر تربیتی ورکشاپس منعقد کیں۔
۱۰۵ مثالی اضلاع سے منتخب افراد کی شرکت۔
متعدد مرحلوں میں تربیت اور کیپاسٹی بلڈنگ۔
۰ سے زائد علماء و معلمین۔
“یہ سلسلہ تسلسل سے جاری ہے تاکہ اہل افراد تیار ہوں اور جماعت فعال بن سکے۔”
جمعیۃ علماء ہند کی عمر ایک صدی مکمل ہونے پر ملک بھر میں اکابرینِ ملت پر علمی و فکری تقریبات منعقد ہوئیں۔
ہفت روزہ الجمعیۃ کا خصوصی شمارہ "امیر الہند رابع نمبر" شائع ہوا۔
حضرت مولانا فخرالدین احمد اور حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ پر قومی سیمینار منعقد ہوا۔
جمعیۃ کی خدمات پر صوبائی سطح پر علمی نشستوں کا آغاز۔
ملی کنونشنز اور اوقاف کانفرنسوں کے ذریعے عوامی بیداری۔
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ پر مرکزی تقریب۔
جمعیۃ علماء ہند نے اپنے مرکزی و صوبائی دفاتر میں کئی تعمیری اصلاحات کیں تاکہ تنظیمی کاموں میں تیزی اور شفافیت آئے۔
"یہ خدمات ملت کے لیے وقف تھیں، آئندہ کے سفر میں دعا و تعاون درکار ہے۔"